مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی آئل ٹینکروں کی ضبطی عدالتوں کے حتمی اور قانونی فیصلوں کے تحت انجام دی جاتی ہے اور یہ تمام اقدامات ملکی و بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان ٹینکروں کی خلاف ورزیوں سے متعلق تمام قانونی دستاویزات امریکی فریق کو بھی ارسال کی جاتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق 1982 کے کنونشن برائے سمندری قانون کے تحت ساحلی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے سمندری حدود یا بین الاقوامی پانیوں میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روک کر ضبط کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکی آئل ٹینکروں کو ضبط کرنا کسی غیر قانونی اقدام کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ یہ مکمل طور پر قانونی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔
اصغر جہانگیر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران کی کارروائیاں امریکا کی جانب سے ایرانی جہازوں کے خلاف کی جانے والی سمندری ڈاکا زنی کے برابر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر خود بھی اس طرز عمل کا اعتراف کر چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج خلیج فارس میں امریکی اقدامات کے مقابلے میں بھرپور طاقت کے ساتھ موجود ہیں، جبکہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف سمندری محاصرے جیسے اقدامات بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کو امریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ مسلسل خاموشی اقوام متحدہ جیسے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ